ویسے تو یہ بلاگ رمضان المبارک کے بارے میں ہے. لیکن ساتھ ساتھ ہم دوسرے عبادتوں پر بھی لکھیں گے. آج ہم نماز تہجد کی دعا tahajjud ki dua احادیث کی روشنی میں اور تہجد کا سہی وقت tahajjud time بھی بتائیں گے.
تہجد کی فضیلت :
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے. ان میں دوسری چیز نماز ہے۔ پانچ وقت کی نماز کا فرض ہونا ساری دنیا کو معلوم ہے. اس کے ساتھ ایک نماز اور بھی معروف ہے، جسے کم ہی کوئی مسلمان ہوگا جو نہ جانتا ہو. اس کی اہمیت اور اس کی فضیلت سے اجمالاً سبھی اہل ایمان واقف ہیں. اور وہ ہے تہجد کی نماز ! یہ نماز ہے تو نفل مگر ابتداء فرض رہ چکی ہے.
اس لئے ثواب کے لحاظ سے قریب قریب فرض کے ہم پایہ ہے۔ اللہ تعالی نے بندوں پر مہربانی فرمائی کہ اسے فرض کے بجاۓ نفل قرار دے دیا کہ کوئی سست ہو. اور اس کی پابندی نہ کر سکے تو وہ گنہگار نہ ہو. اور جس کو حوصلہ ہو ، وہ مجاہدہ کر کے اس کی پابندی کرے، اور درجات عالیہ سے سرفراز ہو۔
یہ رات کی نماز ہے جسے "قیام اللَّیل" کہا جاتا ہے. عموماً یہ رات کے آخری حصہ میں پڑھی جاتی ہے. نیند کے لحاظ سے یہی حصہ رات کا سب سے شیریں حصہ ہوتا ہے. اس حصہ میں نیند کے تمام موانع زائل ہوتے ہیں۔ گرمیوں میں اس وقت رات ٹھنڈی ہو جاتی ہے.
سردیوں میں لحاف کی گرمی عروج پر ہوتی ہے. سناٹا بھی گہرا ہو جا تا ہے. تمام آوازیں خاموشی کی آغوش میں سوچکی ہوتی ہیں.
اس وقت اللہ کی محبت کا شدید تقاضا ہوتا ہے ، جو انسان کو بستر راحت سے اٹھاتا ہے. اور خدا کے حضور کھڑا کرتا ہے۔ ہر زمانہ میں صالحین کا
یہی طریقہ رہا ہے کہ عام لوگ جب رات کے آخری حصہ میں خواب شیریں کے مزے لیتے
ہیں ، تو اللہ کے نیک بندے اپنی نیند قربان کر کے اللہ سے مناجات کرتے ہیں.
رسول اللہﷺ کا ارشاد تم رات کے قیام کو یعنی نماز پڑھنے کو اپنے اوپر لازم کرو. کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ رہا ہے. اور اس سے تمہارے رب کا قرب حاصل ہوتا ہے. گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، اور اس سے گناہوں سے رکاوٹ ہوتی ہے۔
تہجد کا ذکر قرآن کریم میں :
اللہ تعالی نے نماز تہجد کا حکم پہلے اپنے پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کو دیا. اس کے بعد ساری امت کو اس کی ترغیب دی۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات، پر اس کا تذکرہ ہے۔ اور تہجد کا سہی وقت tahajjud time بھی بتایا گیا ہے.
یہ بھی پڑھے: درود تنجینا کی فضیلت
ارشاد باری تعالیٰ ہے : "اے کپڑوں میں لپٹنے والے ! رات کو ( نماز ) میں کھڑے رہا کرو مگر تھوڑی سی رات یعنی نصف رات یا اس سے کسی قدر کم کر دو یا نصف سے کچھ بڑھادو، اور قرآن خوب صاف صاف پڑھو۔"
اس آیت میں براہراست خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے. کہ پوری رات سونے کے لئے نہیں ہے. بلکہ رات کا ایک حصہ خواہ وہ نصف ہو یا نصف سے کچھ کم وبیش، اللہ کی عبادت کے لئے مخصوص ہونا چاہئے. رسول اللہ ﷺ کے لئے یہ تاکیدی حکم ہے۔
ابتداء اسلام میں یہ قیام فرض تھا، بعد میں اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی. لیکن بعض علماء نے فرمایا ہے
کہ رسول اللہ ﷺ پر اس کی فرضیت باقی تھی. اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ فرضیت آپ کے حق میں بھی باقی نہیں رہی تھی. مگر آپ کے لئے تاکید تھی کہ عملاً اسے باقی رکھیں.
چنانچہ رسول اللّٰہ کی زندگی کی تمام راتیں شاہد ہیں کہ آپ ﷺ ہمیشہ اس کا اہتمام کرتے رہے. سفر ہو یا حضر کبھی آپ ﷺ کی کوئی رات اس نماز سے خالی نہ رہی۔ آپ ﷺ نے اس کا اہتمام تمام عمر کیا ہے، اپنی امت کو بھی تلقین فرماتے رہے. کہ ساری رات نہ سوکر گزارو، نہ لہوولعب میں بر بادکرو. رات کی یہی حیات ہے کہ اس میں اللہ کا نام لیا جاۓ. اس طرح کئ مقامات پر تہجد کے نماز کا ذکر آیا ہے. لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے ہم ساری بیان نہیں کرسکتے.
نماز تہجد کی فضیلت احادیث کی روشنی میں :
نماز تہجد کی فضیلت اور ترغیب قرآن کریم کی آیت کی روشنی میں آپ نے ملاحظہ کی ہے. اور بھی متعدد آیات ہیں جن سے اس نماز کی اور اس وقت بیداری کی فضیلت اور ترغیب ثابت ہوتی ہے. ہمارے پیش نظر استیعاب واحاطہ نہیں ہے ، اس لئے اسی قدر پر اکتفاء کی گئی. اب اس کی فضیلت احادیث کی روشنی میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔
تہجد کے وقت بیدار ہونے کی نیت سے باوضو سونا:
احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آدمی اگر باوضو سووے اور تہجد کے وقت بیدار ہونے کی نیت سے سوۓ، تو ایک مبارک اور مستحب کام ہے. حق تعالی کی طرف سے بڑے انعامات سے نوازا جا تا ہے۔ حق تعالی کا ارشاد ہے: "اللہ تعالی توبہ کرنے والوں اور طہارت والوں سے محبت فرماتے ہیں۔"
طہارت اور وضو کی فضیلت میں اگر اور کوئی بات نہ ہوتی تو یہی بات کافی ہے. کہ وہ بندہ جو طہارت کا اہتمام رکھتا ہے، اللہ تعالی کی محبت کا مورد بن جاتا ہے. بندے کے لئے کتنی بڑی فضیلت ہے۔ سونا ایک طرح کی موت ہے، اس وقت آدمی کا باوضو ہونا بڑی سعادت کی بات ہے۔احادیث ملاحظہ ہوں ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے طہارت کی حالت میں یعنی باوضو رات بسر کی. تو اس کے بدن سے لگا ہوا ایک فرشتہ بھی اس کے پاس رات گزارتا ہے. اور جب بھی اس کی آنکھ کھلتی ہے، فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ آپ فلاں بندے کو بخش دیجئے، یہ باوضو سویا ہے.
فرشتوں کی خاص خصوصیت پاک ہونا ہے. نجاست و گندگی سے یہ مخلوق بالکل پاک وصاف ہے. اسی لئے ان کو پاک لوگوں سے بہت مناسبت ہوتی ہے. اور نجاست سے انھیں طبعی اور فطری نفرت ہوتی ہے۔ نجاست سے مناسبت شیطان کو ہوتی ہے. اسی لئے نجس اور ناپاک آدمی شیطانی اثرات میں مبتلا ہوتا ہے۔
حضرت معاذ بن جبل رضی اللّٰہ سے روایت ہے، وہ نبی ﷺ کا ارشا نقل کرتے ہیں کہ جب بھی کوئی مسلمان ذکر اللہ کے ساتھ با وضو سوتا ہے. پھر اس کی آنکھ رات میں کسی وقت کھلتی ہے ، اور اس وقت وہ اللہ تعالی سے دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی مانگتا ہے تو اللہ تعالی اسے ضرور عطا فرماتے ہیں۔
ظاہری طہارت تو وضو ہے. اور ایک باطنی طہارت بھی ہے ، اور وہ ہے گناہوں سے دل کا پاک ہونا۔ یہ طہارت توبہ سے حاصل ہوتی ہے. بندہ مومن کو چاہئے کہ سونے کے وقت دونوں طہارتوں کو جمع کرے. یعنی بستر پر جانے سے پہلے وضو بھی کر لے اور اپنے گناہوں اور اپنی خطاؤں کی معافی بھی اللہ سے مانگ لے.
تا کہ اگر اسی نیند کی حالت میں خدا کے حضور حاضری ہو جاۓ. تو بالکل پاک اور صاف پہنچے اور اگر آنکھ کھلے تو ایسا صاف ستھرا ہو. کہ جو دعا بھی اس وقت اس کے دل و زبان سے نکلے سیدھے بارگاہ قبولیت میں پہنچ جاۓ۔
یہ بھی پڑھے: رمضان میں عبادت کا ثواب
تہجد کی دعائیں tahajjud ki dua :
تہجد tahajjud namaz کا وقت چوبیس گھنٹے کا سب سے بہتر وقت ہے. اس وقت جو کوئی اللہ تعالی سے دعاء کرتا ہے. قبولیت سے سرفراز ہوتا ہے. اس وقت نماز سے پہلے بھی دعاء کرنی چاہئے، اور نماز کے بعد بھی۔
احادیث میں نماز سے پہلے کی دعائیں وارد ہیں. رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرنے والے کی بڑی سعادت ہے. کہ وہ اس وقت میں وہی کلمات اپنی زبان سے ادا کرے. جواللہ کے محبوب و مقبول بندے نے اللہ کے حضور پیش کئے تھے۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللّٰہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کی آنکھ رات میں کھلتی ہے. اور وہ پڑھتا ہے لا إله إلا اللّٰه وحده لاشريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير الحمد اللّٰه وسبحان اللّٰه لاإله إلا اللّٰه واللّٰه اكبر ولا حول ولا قوة إلا باللّٰه ، اور اس کے بعد وہ دعا کرتا ہے اللٰھم اغفرلی (اے اللہ مجھے بخش دیجئے ) یا اور کوئی دعا کرتا ہے تو وہ قبول ہوتی ہے.
پھر وہ وضو کر کے نماز پڑھتا ہے. تو اس کی نماز مقبول ہوتی ہے۔ کس قدر آسان کر دیا ہے اللہ کے رسولﷺ نے قبولیت دعا اور مقبولیتِ نماز کو!.
اور یہ اشارہ اسی ذات کریم کا ہے جس کو دعائیں قبول کرنی ہیں. اور نمازوں کو منظورفرمانا ہے.
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص بیدار ہوتو یوں کہے اَلْـحـَمْـدٌ للّٰهِ الَّذِیْ رَدَّ عَلَىَّ رٌوْحِیْ وَعَـافَـانِیْ فِیْ جَسَدِىْ وَأذِنَ لِیْ بِذِكْرِه . (تمام تعریف اللّٰہِ کے لئے ہے جس نے میری روح کو واپس کیا، اور جسم میں مجھے عافیت عطافرمائی اور مجھے اپنے ذکر کا حکم دیا۔).
حضرت ابن عباس رضی الله عنهما فرماتے ہیں کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس گزاری. اس دن رسول اللہ ﷺ انھیں کے پاس تھے۔ آپ نے کچھ دیر اپنے گھر والوں سے باتیں کیں ، پھر آپ سو گئے ، جب رات کا تہائی حصہ یا اس سے کچھ کم حصہ باقی رہ گیا، تو آپ بیٹھے، اور آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور "إِنَّ فِى خَلْقِ ٱلسَّمَـٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَٱخْتِلَـٰفِ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ لَـَٔايَـٰتٍۢ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَـٰبِ‘‘ تلاوت فرمائی ۔ ( سورہ آل عمران کا آخری رکوع).
رات کا یہ وقت وہ ہوتا ہے، جب کہ رب ذوالجلال آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں ۔ اس وقت خالق کائنات کی خاص نگاہ رحمت ہوتی ہے ، بڑا ہی خوش نصیب ہے وہ بندہ ! جو اس وقت اٹھ کر اللہ تعالی کی عنایت خاصہ کا مستحق ٹھہرتا ہے.
یہ بھی پڑھے: روزہ رکھنے کی دعا
یہی وقت ہے کہ حق تعالی خود اپنے بندوں کو پکارتے ہیں. ان کی حاجت روائیوں کا وعدہ فرماتے ہیں. اس وقت جو بندہ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے. اس سے حق تعالی بیحد خوش ہوتے ہیں۔
قارئین آج ہم نے تہجد کی دعا tahajjud ki dua اور تہجد کی فضیلت پر قرآن و احادیث کی روشنی ڈالی. اس کا سہی وقت tahajjud time بتایا. ہمیں امید ہیں کہ آپ کو یہ پوسٹ پسند آیا ہوگا.
